بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || ایلات [ام الرشراش] بندرگاہ بحیرہ احمر تک رسائی کا واحد ذریعہ ہے جو حالیہ مہینوں میں اہم ترین اقتصادی اور سیکورٹی جنگ کا مرکز بن گیا تھا۔

صہیونی حکام سمجھ رہے تھے کہ یہ بندرگاہ بحیرہ کیسپیئن اور سعودی عرب سے لاکھوں بیرل تیل کی یورپ منتقلی کے لئے پل کا کردار ادا کرے گی لیکن اب اس کی سرگرمیاں ایران کے تابڑ توڑ حملوں کی وجہ سے عملی طور پر بند ہو گئی ہیں۔

عسقلان ـ ایلات پائپ لائن، جو روزانہ 1/15 ملین بیرل خام تیل منتقل کر سکتی تھی، اب جانی بدامنی اور میزائل حملوں کے خطے کی بنا پر، اپنی افادیت کھو گئی ہے۔

ایلات پر حملہ جنگ کا قاعدہ بدل جانے کا شاخسانہ ہے، اور اب صہیونی اپنے جنوبی ڈھانچوں پر بھروسہ کرنے کے قابل نہیں رہے۔
واضح رہے کہ حیفا بندرگاہ ـ جو صہیونیوں کی درآمدات کا دل سمجھی جاتی تھی ـ ایرانی حملوں کے بعد ناکارہ اور غیر محفوظ ہوگی چنانچہ وہ جنوب میں ایلات کو متبادل ذریعے کے طور پر استعمال کرنا چاہتے تھے، لیکن یہ منصوبہ بھی ناکام ہو گیا۔
فوجی ماہرین کہتے ہیں کہ ان حملوں نے صہیونی معیشت پر کاری ضرب لگائی ہے۔ ایلات بندرگاہ ایشیا سے کاروں اور بنیادی ضرورت کی اشیاء کی درآمد کا واحد ذریعہ بن گئی تھی اور اس کی سرگرمیاں بند ہونے سے مقبوضہ فلسطین میں فوڈ چین میں خلل پڑا ہے۔
اشدود اور حیفا کی ریفائنریوں اور تیل کے ڈھانچوں پر ایران کے بھاری حملوں کے بعد ـ جنہیں خام تیل بحیرہ احمر سے ملتا تھا، ـ غاصب ریاست میں ایندھن کی سپلائی بھی بحران سے دوچار کر دیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ